کھوٹی قسمت
کھوٹی قسمت اعظم میاں خالی صفحاف پر قلم بیچھائے گہری سوچ میں محو تھے وہ کچھ ایسا لکھنا چاہتے ہو جو کہ واقعی ایک مکمل تحریر ہو، ویسے طبقاتی نہ ہمواریوں پر تو بہت لکھا جاچکا تھا وہ اب انسان کو مظلوم بنا کر نہیں پیش کرنا چاہتے تھے لیکن یہ بھی ایک حقیقت تھی۔ اعظم صاحب کے مفرضیات تھوڑے مختلف تھے وہ یہ ماننے کیلئے تیار نہ تھے کہ انسان پیدائشی ملزوم ہوتے ہیں اُن کے خیال میں ہر انسان یکساں مواقع اور صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتا ہے پر اگر اُس کا اختمام انہی کے ساتھ ہوتو اس میں قسمت کا رونا صرف کمزور افراد کے لئے راہِ فرار ہے۔ اسی اثناہ میں دروازے ہر صدا ہوتی ہے بابو ایک روپے کا سوال ہے، اعظم میاں کا سارا دہاں بٹ کے رہ گیا اور چلاتے ہوئے بولے جاؤ بابا تنگ نہ کرو، بابا مسلسل ایک ہی صدا لگائے جارہا تھا، اعظم صاحب نے دس روپے نکالے اور دروازہ کھول کر تھمانے چاہے تو بابا نے ہاتھ کھینچ لیا نا باؤ جی ایک روپے سے زیادہ نہیں۔ بابا جی میں کم نہیں دے رہا۔ نہ صاب جی ضرورت سے زیادہ مل جائے تو انسان بخیل ہوجاتا ہے، بابا جی نے ایک دو تین گنتے ہوئے پورے نو سکے اعظم صاحب کے ہاتھ پر رکھ دیے اور چل دیے۔ ایک انسان کی ق...